Thursday, 7 January 2021

راہ میں چھوڑ کر نہیں جاتا

 راہ میں چھوڑ کر نہیں جاتا

ساتھ ہوتا اگر نہیں جاتا

انگلیاں پھیر میرے بالوں میں

یہ مِرا دردِ سر نہیں جاتا

یوں لگا ہوں تِرے گلے سے میں

جس طرح کوئی ڈر نہیں جاتا

کیوں مِرا آس پاس گھومتا ہے

کیوں یہ نشہ اتر نہیں جاتا

کتنا اچھا تھا ہم سے پہلے وہاں

کوئی رستہ اگر نہیں جاتا

عشق اتنا بھی کیا ضروری ہے

کوئی بے عشق مر نہیں جاتا

یوں پڑا ہوں تمہاری یادوں میں

جس طرح کوئی مر نہیں جاتا


ندیم بھابھہ

No comments:

Post a Comment