راہ میں چھوڑ کر نہیں جاتا
ساتھ ہوتا اگر نہیں جاتا
انگلیاں پھیر میرے بالوں میں
یہ مِرا دردِ سر نہیں جاتا
یوں لگا ہوں تِرے گلے سے میں
جس طرح کوئی ڈر نہیں جاتا
کیوں مِرا آس پاس گھومتا ہے
کیوں یہ نشہ اتر نہیں جاتا
کتنا اچھا تھا ہم سے پہلے وہاں
کوئی رستہ اگر نہیں جاتا
عشق اتنا بھی کیا ضروری ہے
کوئی بے عشق مر نہیں جاتا
یوں پڑا ہوں تمہاری یادوں میں
جس طرح کوئی مر نہیں جاتا
ندیم بھابھہ
No comments:
Post a Comment