Friday, 23 April 2021

کوئی کہانی کوئی واقعہ سنا تو سہی

 کوئی کہانی کوئی واقعہ سنا تو سہی

اگر ہنسا نہیں سکتا مجھے رُلا تو سہی

کسی کے ہجر کا چھلا کسی وصال کی چھاپ

بچھڑ کے مجھ سے تجھے کیا مِلا دِکھا تو سہی

کبھی بلا تو سہی اپنے آستانے پر

مجھے بھی اپنا کوئی معجزہ دکھا تو سہی

میں خود سے چھپ کے تجھے پیار کرنے آؤں گا

تُو ایک بار مجھے بھُول کر بُلا تو سہی

کسے خبر یہیں تیرا شکار ہو جاوید

تُو چند تیر اندھیرے میں ہی چلا تو سہی


جاوید انور

No comments:

Post a Comment