ادھوری لڑکیو
تم اپنے کمروں میں پرانے سال کے بوسیدہ کیلنڈر
سجا کر سوچتی ہو
یہ بدن عمروں کی سازش میں نہ آئیں گے
تمہیں کس نے بتایا ہے
گھڑی کی سوئیوں کو روکنے سے دوڑتا
اور ہانپتا سورج مثال نقش پا افلاک پر جم جائے گا
تمہیں معلوم ہے عُریانیوں کو ڈھانپ کر
تم اور عُریاں ہو رہی ہو
روز ان آنکھوں کی تکڑی میں تمہارے جسم تُلتے ہیں
ہر اک شب ہوسٹل میں تاش کی بازی میں
تم کو جیت کر اک جشن ہوتا ہے
ہماری خوابگاہوں میں تمہارے خواب روشن ہیں
چلی آؤ
کہ باہر برف ہے
اور اب ہمیں تم سے جدا بستر کہاں تسلیم کرتے ہیں
چلی آؤ کہ عمریں رائیگاں ہونے سے بچ جائیں
جاوید انور
No comments:
Post a Comment