Thursday, 20 January 2022

ادھوری لڑکیو چلی آؤ کہ عمریں رائیگاں ہونے سے

 ادھوری لڑکیو

تم اپنے کمروں میں پرانے سال کے بوسیدہ کیلنڈر 

سجا کر سوچتی ہو

یہ بدن عمروں کی سازش میں نہ آئیں گے

تمہیں کس نے بتایا ہے

گھڑی کی سوئیوں کو روکنے سے دوڑتا 

اور ہانپتا سورج مثال نقش پا افلاک پر جم جائے گا

تمہیں معلوم ہے عُریانیوں کو ڈھانپ کر 

تم اور عُریاں ہو رہی ہو

روز ان آنکھوں کی تکڑی میں تمہارے جسم تُلتے ہیں

ہر اک شب ہوسٹل میں تاش کی بازی میں 

تم کو جیت کر اک جشن ہوتا ہے

ہماری خوابگاہوں میں تمہارے خواب روشن ہیں

چلی آؤ

کہ باہر برف ہے

اور اب ہمیں تم سے جدا بستر کہاں تسلیم کرتے ہیں

چلی آؤ کہ عمریں رائیگاں ہونے سے بچ جائیں 


جاوید انور

No comments:

Post a Comment