حصارِ ہوش میں خوابوں کے در رکھے گئے ہیں
کوئی رستہ نہیں ہے، اور سفر رکھے گئے ہیں
بسنتی دھوپ آنگن میں سمٹ کر سو رہی ہے
ہوا کے دوش پر پیڑوں کے سر رکھے گئے ہیں
ازل سے بھاگتا ہوں اپنے ہی سائے کے پیچھے
تعاقب میں مِرے، شام و سحر رکھے گئے ہیں
یہ کیسا کھیل ہے، دشوار جینے کے جتن ہیں
مگر مرنے کے گُر آسان تر رکھے گئے ہیں
ادا ہوں گے ہمارے بے بہا لا حاصلی میں
وہ سارے قرض، جو اس جان پر رکھے گئے ہیں
سرمد صہبائی
No comments:
Post a Comment