دعویٰ ہے میرا اتنا خسارہ نہیں ہوتا
حق میرا اگر آپ نے مارا نہیں ہوتا
میں دور بہت دور نکل جاتی یہاں سے
اے کاش، اگر تم نے پکارا نہیں ہوتا
شامل کوئی سازش میں میرا اپنا رہا ہے
لشکر میرا ورنہ کبھی ہارا نہیں ہوتا
سر جاتے کئی اور اسی دشت بلا میں
ظالم کا جو سر میں نے اتارا نہیں ہوتا
درکار ہے ہر پیٹ کو دو وقت کی روٹی
وعدوں کے نوالوں پہ گزارا نہیں ہوتا
دل میرا سبین اب مجھ کو سمجھ آنے لگا ہے
اخلاص کے سودے میں خسارہ نہیں ہوتا
غوثیہ سبین
No comments:
Post a Comment