Thursday, 20 January 2022

ہر گھڑی غصہ و ہیجان بھرا رہتا تھا

 ہر گھڑی غصہ و ہیجان بھرا رہتا تھا

مجھ میں بھی آگ کا طوفان بھرا رہتا تھا

یہ شجر کٹنے سے پہلے کا کوئی واقعہ ہے

جب پرندوں سے یہ دالان بھرا رہتا تھا

مجھ میں رہتی تھیں کسی وقت بہت سی یادیں

قیدیوں سے مِرا زندان بھرا رہتا تھا

دل کسی وجہ سے ویران ہوا ہے، ورنہ

اس حویلی میں تو سامان بھرا رہتا تھا

قہقہے گونجتے تھے شہر کے چوراہوں پر

کھیلنے والوں سے میدان بھرا رہتا تھا

اور بھی لوگ یہاں ہوں گے مگر میرے لیے

ایک ہی شخص سے ملتان بھرا رہتا تھا


قمر رضا شہزاد

No comments:

Post a Comment