یہ لگتا ہے کہ دریا پر رہی ہے
ہماری آنکھ اتنا تر رہی ہے
محبت کی اجازت دے زمانہ
مِرے اندر کی عورت مر رہی ہے
نظر اک رنگ سے بھی آشنا نئیں
یہ تتلی پھول سے ہٹ کر رہی ہے
خراشیں اس لیے ہیں جسم و جاں پر
محبت کانچ کا بستر رہی ہے
اسے اب زندگی دی جائے جو شے
گزشتہ دور میں پتھر رہی ہے
سراہا جائے گا اس کو یقیناً
اگر دیوار کوئی در رہی ہے
ناجانے کون سےخدشات ہیں جو
خموشی آہٹوں سے ڈر رہی ہے
مناظر آنکھ نے دیکھے نہیں ہیں
نظر تاوان لیکن بھر رہی ہے
گل حوریہ
No comments:
Post a Comment