Saturday, 7 August 2021

مہیب رات کے گنجان پانیوں سے نکل

 مہیب رات کے گنجان پانیوں سے نکل

نئی سحر کے ستارے تو چمنیوں سے نکل

ہر ایک حد سے پرے اپنا بوریا لے جا

بدی کا نام نہ لے اور نیکیوں سے نکل

اے میرے مہر تُو اس کی چھتوں پہ آخر ہو

اے میرے ماہ تُو آج اس کی کھڑکیوں سے نکل

نکل کے دیکھ تِری منتظر قطار قطار

عزیز دانۂ گندم تُو بوریوں سے نکل

تُو میری نظم کے اسرار میں ہویدا ہو

تُو میرے کشف کی نادیدہ گھاٹیوں سے نکل

اے پچھلی عمر ادھر سوکھی پتیوں میں آ

اے اگلے سال بجھی موم بتیوں سے نکل


جاوید انور

No comments:

Post a Comment