Monday, 15 March 2021

ہم کہ ہیرو نہیں ولن بھی نہیں

 ہم کہ ہیرو نہیں


ہم خزاں کی حدود سے چل کر

خود بہاروں کی کوکھ تک آئے

ہم کو فٹ پاتھ پر حیات ملی

ہم پتنگوں پہ لیٹ کر روئے

سورجوں نے ہمارے ہونٹوں پر

اپنے ہونٹوں کا شہد ٹپکایا

اور ہماری شکم تسلی کو

جون کی چھاتیوں میں دودھ آیا

برف بستر بنی ہمارے لیے

اور دوزخ کے سرخ ریشم سے

ہم نے اپنے لیے لحاف بُنے

زرد شریان کو دھوئیں سے بھرا

پھیپھڑوں پر سیہ راکھ ملی

ناگا ساکی میں پھول کاشت کئے

نظم بیروت میں مکمل کی

لورکا کو کلائی پر باندھا

ہوچی منہ کو نیلام میں رکھا

ساڑھے لینن بجے سکول گئے

صبحِ عیسیٰ کو شام میں رکھا

ارمغانِ حجاز میں سوئے

ہولی ووڈ کی اذان پر جاگے

ڈائری میں سدھارتھا لکھا

درد کو فلسفے کی لوری دی

زخم پر شاعری کا پھاہا رکھا

تن مشینوں کی تھاپ پر تھرکے

دل کتابوں کی تال پر ناچا

ہم نے فرعون کا قصیدہ لکھا

ہم نے کوفے میں مرثیے بیچے

ہم نے بوسوں کا کاروبار کیا

ہم نے اندھوں میں آئینے بیچے

زندگی کی لگن نہیں ہم کو

زندگی کی ہمیں تھکن بھی نہیں

ہم کہ ہیرو نہیں ولن بھی نہیں


جاوید انور

No comments:

Post a Comment