ہوا ہے عشق مِرا کامیاب برسوں میں
سکون دل کو مِلا ہے جناب برسوں میں
ہزاروں دیکھ کے ہوش و حواس کھو بیٹھے
نصیب ہوتا ہے ایسا شباب برسوں میں
تمہارے آنے سے گلشن میں آ گئی رونق
کھِلا ہے آج نِرالا گلاب برسوں میں
وہ کیا ملے کہ دو عالم کی مِل گئی دولت
یہ میں نے آج کیا انتخاب برسوں میں
ہزاروں خط لکھے اس بیوفا کے نام مگر
دیا نہ اس نے کسی کا جواب برسوں میں
حواس و ہوش کو راہی سنبھال کر رکھیے
ہوا ہے کوئی ابھی بے نقاب برسوں میں
رشید راہی اٹاوی
No comments:
Post a Comment