Friday, 13 August 2021

ہوس کے بیج بدن جب سے دل میں بونے لگا

 ہوس کے بیج بدن جب سے دل میں بونے لگا

میں خود سے ملنے کے سارے جواز کھونے لگا

رفیقِ صبح تھا سورج سے رشتہ داری تھی

سپاہ شب میں یہ کس کا شمار ہونے لگا

عجیب منظرِ آخر تھا بُجھتی آنکھوں میں

وہ مجھ کو مار کے بے اختیار رونے لگا

اس احتیاط کی سرحد سزا سے ملتی ہے

لہو کا نام لیا،۔ آستین دھونے لگا

پھر اس کے بعد یہ ساری زمین میری تھی

جگا کے جب سے مجھے یہ ضمیر سونے لگا


شعیب نظام

No comments:

Post a Comment