Friday, 13 August 2021

دل بے کل کو آرزو کیا ہے

 دلِ بے کل کو آرزو کیا ہے

تُو نہیں گر تو روبرو کیا ہے

شب ہجراں! ذرا بتا تو سہی

نالۂ شب کی آبرو کیا ہے؟

تُو نہیں گر تو دامنِ دل کو

اب کوئی حاجتِ رفُو کیا ہے

میرے گلشن کی خبر لو یارو

اک دُھواں سا یہ چار سُو کیا ہے

زرد پتوں کی سرسراہٹ میں

کوئی نغمہ ہے، گفتگو کیا ہے

ساتھ رہ کر جو ہوئے ان جانے

اب بچھڑنے کی آرزو کیا ہے

ایک لمحے کے سفر میں طارق

سارے عالم کی جستجو کیا ہے


طارق سعید

No comments:

Post a Comment