Thursday, 7 January 2021

سرکنڈوں کے پیچھے کالے برگد کا آسیب کھڑا تھا

 پچھل پیری


سرکنڈوں کے پیچھے

کالے برگد کا آسیب کھڑا تھا

جس کی شاخیں واپس دھرتی چاٹ رہی تھیں

پچھلے تیرہ سال سے آدھی رات وہاں پر

خالص گھی کی خوشبو والا ڈیوا خود ہی جل جاتا

اور پچھل پیری ہنسنے لگتی

بستی کا ہر ایک سجیلا

مونچھوں کو

تاؤ دیتا کھجلانے لگتا

جس سے بچے ڈر جاتے

اور ہانڈی چولہا کرنے والی آنکھیں لال بھبھوکا ہوتیں

عامل باوے اور معلم جتنا پڑھتے الٹا ہوتا

دیسی گھی جلنے کی خوشبو اور کسیلی ہونے لگتی

پھر کوئی عورت رونے لگتی

اک دن بستی کی ماؤں نے

ہمت کر کے کالا برگد کاٹ گرایا

سرکنڈوں کو آگ لگا دی

کچھ دن گزرے تو کھیتوں سے

نوچی اُدھڑی ننھی سی اک لاش ملی تھی

اب تو یہ معمول ہوا ہے

بستی کے مردوں نے پہلے ہی بولا تھا

یہ مت کرنا

پچھل پیری روٹھ گئی ہے


ذوالقرنین حسنی 

No comments:

Post a Comment