ایسے طاری تھا جنوں ہم پہ غزل خوانی کا
رقص زنجیر میں جیسے کسی زندانی کا
صاحبو! ہم سخنی چیزِ دِگر ہے، لیکن
ہم مآل اس کو سمجھتے ہیں پریشانی کا
آئینہ، گھر کو پلٹ آنے پہ یوں ملتا ہے
منتظر جیسے کوئی یار کسی جانی کا
میں نے بکنے نہ دیا نان و نمک کی خاطر
کیسے دیکھے وہ تماشا مِری ارزانی کا
ہجر کی رات بھرے گھر میں رہا تنہا کل
یاد آیا تھا بہت شعر مجھے بانی کا
انور جاوید ہاشمی
No comments:
Post a Comment