Friday, 8 January 2021

ایسے طاری تھا جنوں ہم پہ غزل خوانی کا

 ایسے طاری تھا جنوں ہم پہ غزل خوانی کا

رقص زنجیر میں جیسے کسی زندانی کا

صاحبو! ہم سخنی چیزِ دِگر ہے، لیکن

ہم مآل اس کو سمجھتے ہیں پریشانی کا

آئینہ، گھر کو پلٹ آنے پہ یوں ملتا ہے

منتظر جیسے کوئی یار کسی جانی کا

میں نے بکنے نہ دیا نان و نمک کی خاطر

کیسے دیکھے وہ تماشا مِری ارزانی کا

ہجر کی رات بھرے گھر میں رہا تنہا کل

یاد آیا تھا بہت شعر مجھے بانی کا


انور جاوید ہاشمی​

No comments:

Post a Comment