دکھائی دیتی ہے ہر سو خوشی کی لہر ہمیں
کہا ہے جب سے کسی نے غریبِ شہر ہمیں
ذرا سی بات پہ ناراض ہم رہیں کتنا
گوارا یوں بھی کہاں سارے اہلِ دہر ہمیں
تِرے وجود کی خوشبو اڑا کے لائی ہیں
وہ ساعتیں جو کبھی لگ رہی تھیں زہر ہمیں
وہ کون دوسرا اس خواب گاہ میں آیا
یہ کون چھیڑنے آتا ہے پچھلے پہر ہمیں
شبانہ روز حصارِ نظر میں رکھتے ہیں
بلا سبب نہیں تکتے یہ ماہ و مہر ہمیں
رواں دواں ہے اسی میں سفینۂ غمِ دل
سو دیکھیں لے کے کہاں جائے اب یہ بحر ہمیں
انور جاوید ہاشمی
No comments:
Post a Comment