یوں بظاہر مری کوتاہی نہیں ہے کوئی
سلسلہ دائمی ہوتا ہی نہیں ہے کوئی
پاؤں دھرنے کی طلب میں جو اضافہ کیجے
سر پٹکتے رہیں کہ جا ہی نہیں ہے کوئی
عکس پانی میں رہے یا کہ سرِ آئینہ
گویا مہتاب تو اونچا ہی نہیں ہے کوئی
درد کو جانئے درماں، نہ توقع رکھئے
مت سمجھیے کہ مداوا ہی نہیں ہے کوئی
آنکھ اٹھے تو نگاہوں میں ہوں رقصاں منظر
چلنے لگ جائیں تو رستا ہی نہیں ہے کوئی
اس کا ثانی نہ اگر ہاشمی دیکھا جائے
ہم سمجھ لیں گے ہم سا ہی نہیں ہے کوئی
انور جاوید ہاشمی
No comments:
Post a Comment