Wednesday, 16 December 2020

یوں بظاہر مری کوتاہی نہیں ہے کوئی

 یوں بظاہر مری کوتاہی نہیں ہے کوئی

سلسلہ دائمی ہوتا ہی نہیں ہے کوئی

پاؤں دھرنے کی طلب میں جو اضافہ کیجے

سر پٹکتے رہیں کہ جا ہی نہیں ہے کوئی

عکس پانی میں رہے یا کہ سرِ آئینہ

گویا مہتاب تو اونچا ہی نہیں ہے کوئی

درد کو جانئے درماں، نہ توقع رکھئے

مت سمجھیے کہ مداوا ہی نہیں ہے کوئی

آنکھ اٹھے تو نگاہوں میں ہوں رقصاں منظر

چلنے لگ جائیں تو رستا ہی نہیں ہے کوئی

اس کا ثانی نہ اگر ہاشمی دیکھا جائے

ہم سمجھ لیں گے ہم سا ہی نہیں ہے کوئی


انور جاوید ہاشمی

No comments:

Post a Comment