شکستہ کھڑکیاں، چپ سیڑھیاں مکانوں کی
سنا رہیں ہیں کہانی گئے زمانوں کی
اکیلے پیاس کے مارے درخت کے پتے
زبانیں نکلی ہوئی، جیسے بے زبانوں کی
تمام نقشِ قدم چھپ گئے ہیں مٹی میں
ملی ہے خاک میں تقدیر خاندانوں کی
اداس جھاڑیاں، اینٹوں سے منہ نکالے ہوئے
نشانیاں ہیں یہی، چند بے نشانوں کی
یہ اونچی نیچی چھتوں کے بغیر دیواریں
زمیں پہ لکھی کہانی ہے آسمانوں کی
منظر بخاری
No comments:
Post a Comment