واقعی کیا تمہیں ہم یاد نہیں آتے ہیں؟
ہم تو آنکھوں کو تمہارے لیے چھلکاتے ہیں
بمبئ چھوڑ کے آباد کراچی کر لی
تم نے کس طرح یہ منظور جدائی کر لی
کیا وہاں دل کو یہاں جیسا سکوں ملتا ہے؟
کیا وہاں جھیل میں رنگین کنول کھلتا ہے؟
سچ بتاؤ وہاں ناشاد نہیں ہو تم بھی؟
کیا ہماری طرح برباد نہیں ہو تم بھی؟
خوش ہو یا غمزدہ؟ دل چیر کے دکھلاؤ تو
وہاں کس حال میں ہو؟ آج یہ بتلاؤ تو
کیا تمہیں اپنے پرائے بھی نہیں یاد آتے؟
بوڑھے برگد کے وہ سائے بھی نہیں یاد آتے؟
کیا ہمارے لیے اب ہوش نہیں کھوتے ہو؟
یاد کر کے ہمیں راتوں کو نہیں روتے ہو؟
شبینہ ادیب کانپوری
No comments:
Post a Comment