Sunday, 21 November 2021

منفرد سب سے مری طرز ہنر ہے جاناں

 منفرد سب سے مری طرزِ ہنر ہے جاناں

میرے لہجے میں محبت کا اثر ہے جاناں

میرے ہر شعر کے باطن میں اتر کر دیکھو

اس کا ہر مصرعۂ تر، مثلِ گہر جاناں

شہر کا شہر بصارت سے ہوا ہے محروم

ایک تُو ہی تُو یہاں اہلِ نظر ہے جاناں

میں تجھے کیسے مِری جان بُھلا سکتی ہوں

تجھ سے آباد مِرے دل کا نگر ہے جاناں

مجھے شکوہ تو نہیں بے سر و سامانی کا

تیری چاہت ہی مِرا رختِ سفر ہے جاناں

تُو نے لفظوں کی مسیحائی عطا کی مجھ کو

یہ تِری خاص عنایت کی نظر ہے جاناں

دشتِ وحشت کا جسے نام دیا تھا تُو نے

تیری رابیل وہیں خاک بسر ہے جاناں


گل رابیل

No comments:

Post a Comment