راحتیں تم سے ہیں خوشیوں کا سویرا تم سے
میری دنیا میں ہے ہر سمت اُجالا تم سے
بھول سکتی ہی نہیں میں یہ عنایات کبھی
جگمگاتا رہا ہر وقت نصیبا تم سے
تم سے منسوب ہے یہ میرے سُخن کا اعجاز
نظم تم سے ہے، مِری غزلوں کا تحفہ تم سے
پہلے پہلے تو یہ تھا دل میں محبت بن کر
بن گیا اب تو مِرا عشق نرالا تم سے
تم ستمگر بھی ہو اور میرے مسیحا بھی ہو
مجھ کو ہر درد کا پانا ہے مداوا تم سے
بھول پاؤں گی نہ احساں یہ تمہارا ہر گز
میں نے پایا ہے کڑی دھوپ میں سایا تم سے
میرے دل میں. ہی نہیں روح میں بستے ہو تم
کر نہ پائے گا جُدا مجھ کو زمانہ تم سے
آج معیار کی چوٹی پہ ہے چاہت اُس کی
گُل نے سیکھا ہے محبت کا سلیقہ تم سے
گل رابیل
No comments:
Post a Comment