ابھی ہنر کو یہاں ہم نے آزمانا ہے
سخنوری کا انہیں معجزہ دکھانا ہے
ہمیں ہے علم کے آخر پہ پردہ گرتے ہی
تماشا ختم ہو جب، تالیاں بجانا ہے
نہیں ہے رکھنا محبت کی جانچ کو کل پر
یہ بت انا کا تِری آج ہی گرانا ہے
سنائے جو بھی اسے سن کے آگے بڑھ جاؤ
سماعتوں کو ابھی یہ سبق سکھانا ہے
وہ مانگ بیٹھا تھا دل میں جگہ، کہا میں نے
نہیں، نہیں، یہ کسی اور کا ٹھکانا ہے
وہ روٹھ بیٹھا ہے نازش تو کیسی مشکل ہے
محبتوں کی تو سنت میں ہی منانا ہے
نازش غفار
No comments:
Post a Comment