Wednesday, 24 March 2021

ابھی ہنر کو یہاں ہم نے آزمانا ہے

 ابھی ہنر کو یہاں ہم نے آزمانا ہے

سخنوری کا انہیں معجزہ دکھانا ہے

ہمیں ہے علم کے آخر پہ پردہ گرتے ہی

تماشا ختم ہو جب، تالیاں بجانا ہے

نہیں ہے رکھنا محبت کی جانچ کو کل پر

یہ بت انا کا تِری آج ہی گرانا ہے

سنائے جو بھی اسے سن کے آگے بڑھ جاؤ

سماعتوں کو ابھی یہ سبق سکھانا ہے

وہ مانگ بیٹھا تھا دل میں جگہ، کہا میں نے

نہیں، نہیں، یہ کسی اور کا ٹھکانا ہے

وہ روٹھ بیٹھا ہے نازش تو کیسی مشکل ہے

محبتوں کی تو سنت میں ہی منانا ہے


نازش غفار

No comments:

Post a Comment