خود کو مِری نظر سے مِرے یار دیکھ کر
میرے کہے سے دیکھنا اک بار دیکھ کر
خنجر نہ تیغ و تیر نہ تلوار دیکھ کر
ہم مر مٹے ہیں حسن کا شہکار دیکھ کر
کوئی سراب اور نہ چمتکار دیکھ کر
دل چین پاتا ہے تو رُخِ یار دیکھ کر
دنیا کے رنگ ڈھنگ کو ہم جیسے سادہ دل
پاگل سے ہو رہے ہیں سمجھدار دیکھ کر
زلفوں میں تیری کرتی ہے ہر ایک شب قیام
ہر دن نکلتا ہے تِرے رُخسار دیکھ کر
ہر ایک غم نے آج مِرے کر لی خود کشی
اک اُن کو میرا مونس و غمخوار دیکھ کر
جی چاہتا ہے پھوڑ لوں عرفان اپنا سر
خلوت میں اپنی سُونی سی دیوار دیکھ کر
عرفان نعمانی
No comments:
Post a Comment