ہواؤں کی شرارت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے
چراغوں کی شجاعت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے
اِدھر آنکھیں، اُدھر زلفیں، یہاں پلکیں، وہاں اَبرو
قیامت ہی قیامت ہے، مگر ہم کہہ نہیں سکتے
ہواؤں کی نمائش ہے شراروں کی ستائش ہے
کھڑی دل کی عمارت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے
نگاہوں نے ڈبویا ہے، نگاہوں کے سفینے کو
سمندر کی عنایت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے
جلائے تیز آندھی میں دِیے ہم نے محبت کے
ہواؤں کی اجازت ہے، مگر ہم کہہ نہیں سکتے
کوئی کانٹا چُبھا ہے دل کے پیروں میں چمن میں کل
گُلِِ تَر کی اجازت ہے، مگر ہم کہہ نہیں سکتے
چُبھے ہیں خار دل میں ہر ادا سے آپ کی عادل
گُلابوں کی نزاکت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے
عادل اشرف
No comments:
Post a Comment