Wednesday, 12 May 2021

رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہے

 رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہے

پھر کوئی لے کے بہاروں کا پیام آیا ہے

بادہ خواران فنا بڑھ کے قدم لو اس کے

لے کے ساغر میں جو صہبائے دوام آیا ہے

میں نے سیکھا ہے زمانے سے محبت کرنا

تیرا پیغامِ محبت مِرے کام آیا ہے

ہو گیا تیری محبت میں گرفتار تو پھر

طائرِ روح بھلا کب تہِ دام آیا ہے

خود بخود جھک گئی پیشانیٔ ارباب خودی

عشق کی راہ میں ایسا بھی مقام آیا ہے

تشنہ کامان نظارہ کو یہ مژدہ دے دو

بے نقاب آج کوئی پھر سر بام آیا ہے

ہو مبارک تمہیں رندو کہ بہ تائید خدا

کوئی چھلکاتا ہوا شیشہ و جام آیا ہے

جب کبھی گردش دوراں نے ستایا ہے بہت

تیرے رندوں کی زباں پر ترا نام آیا ہے

اہل مغرب کو پلا کر مئے عرفاں درشن

پھر سے مشرق کی طرف عرش مقام آیا ہے


درشن سنگھ

No comments:

Post a Comment