Wednesday, 12 May 2021

مجرم ہوں اگر مجھ کو سزا کیوں نہیں دیتے

 مجرم ہوں اگر مجھ کو سزا کیوں نہیں دیتے

اپنا ہوں تو پھر مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے

کچھ اور نہیں شکوہ شکایت ہی کرو تم

اس بجھتی محبت کو ہوا کیوں نہیں دیتے

تم لوٹ بھی جاؤ تو اثر دیر تلک ہو

ملتے ہوئے یہ ہاتھ دبا کیوں نہیں دیتے

پھر دیکھ کے صاحب جی اسی خاص نظر سے

امید کے غنچوں کو کھلا کیوں نہیں دیتے

اک بات ہی کہنی ہے مگر لوگ بہت ہیں

کچھ وقت مجھے ان کے سوا کیوں نہیں دیتے


دانش اعجاز

No comments:

Post a Comment