Wednesday, 12 May 2021

گنگناتی ہوئی آواز کہاں سے لاؤں

 گنگناتی ہوئی آواز کہاں سے لاؤں

تیری آواز کا انداز کہاں سے لاؤں

تیرے الطاف سے رقصاں ہیں لبوں پر خوشیاں

غم میں ڈوبی ہوئی آواز کہاں سے لاؤں

حال دل پھول سے چہروں کو سنانے کے لیے

میں لب زمزمہ پرواز کہاں سے لاؤں

مجھ سے ہنس ہنس کے تِری مشق ستم ہوتی ہے

تجھ سا مونس بتِ طناز کہاں سے لاؤں

شومیٔ بخت ہے یہ چرخ کہ وہ کہتے ہیں

میں مسیحائی کا انداز کہاں سے لاؤں


چرخ چنیوٹی

No comments:

Post a Comment