Wednesday, 12 May 2021

آہ وہ شعلہ ہے جو جی کو بجھا کے اٹھے

 آہ وہ شعلہ ہے جو جی کو بجھا کے اٹھے

درد وہ فتنہ ہے جو دل کو بٹھا کے اٹھے

آپ کی یاد میں ہم اے صنم غفلت کیش

ایسے بیٹھے کہ قیامت ہی اٹھا کے اٹھے

ایک دزدیدہ نظر سے مِرا دل چھین کے واہ

تم کدھر کو مِری جاں آنکھ بچا کے اٹھے

عرصۂ حشر تک اک لگ گیا تانتا ان کا

مُردے قبروں سے جو تیرے شہدا کے اٹھے

رمضاں کیونکہ برس بھر کو سمجھ بیٹھیں ہم

آئے دن کے بھی کسی سے یہ کڑاکے اٹھے

دل نشیں رحمت حق جب سے ہوئی ہے کیفی

دغدغے دل سے مرے روز جزا کے اٹھے


کیفی دہلوی

دتا تریہ کیفی

No comments:

Post a Comment