کسی کی شام سادگی سحر کا رنگ پا گئی
صبا کے پاؤں تھک گئے مگر بہار آ گئی
چمن کی جشن گاہ میں اداسیاں بھی کم نہ تھیں
جلی جو کوئی شمع گل کلی کا دل بجھا گئی
بتانِ رنگ رنگ سے بھرے تھے بتکدہ مگر
تیری ادائے سادگی مِری نظر کو بھا گئی
میری نگاه تشنہ لب کی سر خوشی نہ پوچھیے
کے جب اٹھی نگاہ ناز پی گئی پلا گئی
خزاں کا دور ہے مگر وہ اس ادا سے آئے ہیں
بہار درشن حزیں کی زندگی پہ چھا گئی
درشن سنگھ
No comments:
Post a Comment