Friday, 14 January 2022

حسن کے جلوے لٹائے تری رعنائی نے

 حسن کے جلوے لٹائے تِری رعنائی نے

راز سب کھول دئیے ایک ہی انگڑائی نے

رنگ بھر کر تِری تصویر میں جذبِ غم کا

اپنی تصویر بنا دی تِرے سودائی نے

وصلِ محبوب کی تدبیر سُجھائی مجھ کو

حق پرستی نے عقیدت نے جبیں سائی نے

ہم نے سوچا تھا کہ بجھ جائیں گے غم کے شعلے

آ کے کچھ اور ہوا دی انہیں پُروائی نے

شورش دہر نے بے گانہ کیا خود سے مجھے

آگہی بخشی مجھے گوشۂ تنہائی نے

ایک معصوم سے چہرے پہ رعونت کی نمود

ہائے کیا ظلم کیا عالمِ برنائی نے

گردشِ وقت نے میخانے میں دم توڑ دیا

جانے کیا چیز پلا دی تِرے صہبائی نے

رخ تماشے کا بدل ڈالا اچانک آ کر

ایک خوش چہرہ خوش انداز تماشائی نے

چرخ آپس کے تعلق کا یہ انداز بھی دیکھ

کر دیا ان کو بھی رسوا مِری رسوائی نے 


چرخ چنیوٹی

No comments:

Post a Comment