ڈرو آگہی سے
تڑپتے بدن کی
سڑک پر پڑی میتِ بے کفن کی
لہو کی
فغاں کی
صلیب و سناں کی
جھلستے جہاں کی
سلگتے گھروں کی
بریدہ سروں کی
قسم ہے
ڈرو آدمی سے
ڈرو آگہی سے
وہ جن کی زبانوں کو بندوق نے چپ کرایا
جنہیں بولنے پر
اٹھایا
ہوا ہو گئے ہیں
وہ کیا ہو گئے ہیں
بریدہ لبوں کی فصیلوں پہ خوں سے ہوئے
دستخط ہیں تمہارے
تم اپنے ہی گھر پر نشانہ لگائے ہوئے ہو
بتاؤ ذرا
تم کو رہزن کہوں یا
نقب زن؟
تمہارے دہن کو لہو لگ گیا ہے
ڈرو ایسے دن سے
کہ جب خون سر سے گزرنے لگے گا
یہ لشکر بکھرنے لگے گا
ڈرو انگلیوں سے
کہ جب وہ اٹھیں گی
تو سب یہ کہیں گے
سپاہی سپاہی سپاہی
ڈرو سسکیوں سے
لہو سے بھری ہچکیوں سے
یہ اجڑی ہوئی جھولیوں سے
کئی بے صدا لوریوں سے
سسکتی ہوئی بے ردا بیٹیوں سے
دریدہ دہن لاپتہ شہریوں سے
ڈرو شاعری سے
ڈرو آگہی سے
ڈرو آدمی سے
ڈرو روشنی سے
ڈرو اے سیاہی
ڈرو اے سپاہی
ڈرو اے سپاہی
زین عباس
No comments:
Post a Comment