Thursday, 7 July 2022

دل خزانے میں اک ڈوبتی زندگی کے سوا کچھ نہیں

 دل خزانے میں اک ڈوبتی زندگی کے سوا کچھ نہیں

عمر بھر دُکھ پہ تقسیم ہوتے رہے اور بچا کچھ نہیں

اپنی آئندہ نسلوں کو دُکھ کے سوا اور کیا بانٹتے؟

جن کو وِرثے میں محرومیوں کے علاوہ ملا کچھ نہیں

آرزو کے اندھے تعاقب میں سانسیں اکھڑتی گئیں

اپنی دہلیز تک آتے آتے نظر میں رہا کچھ نہیں

مدتوں زلزلے ذات کے بند کمروں میں اٹھتے رہے

لیکن اپنی انا کے علاوہ مکاں میں گِرا کچھ نہیں

اتنی بیگانہ رُت تھی کہ جب آخری شام رخصت ہوئے

کوئی ملنے نہ آیا، کسی آنکھ نے بھی کہا کچھ نہیں

کب تلک دستکوں کی تمناؤں میں رت جگے جان جی

موت کی گود میں سو رہو زندگی میں دھرا کچھ نہیں


حسن عباس رضا

No comments:

Post a Comment