دل میں رکھے ہوئے خوابوں کا گھروندا دکھ ہے
سرتاپا دکھ مِری آنکھیں، تِرا چہرہ دکھ ہے
مجھ سے مت ہاتھ ملا، اور نہ دم بھر میرا
تجھ کو معلوم نہیں، اس کا نتیجہ دکھ ہے
دکھ ہی دکھ پھیلے ہوئے ہیں مِرے چاروں جانب
میں تمنائے وفا ہوں، مِرا نغمہ دکھ ہے
دکھ مِرے واسطے تشریح کا محتاج نہیں
میں سخن سازِ محبت، میرا پیشہ دکھ ہے
دکھ حقیقت ہے کناروں پہ پڑے ذروں کی
اور موجوں کی حقیقت کا خلاصہ دکھ ہے
کتنی ملتی ہے مِرے بخت سے تقدیر تری
درد ہے میری کہانی، تِرا قصہ دکھ ہے
ہاں تجھے میرے مصائب کا نہیں اندازہ
ہاں مجھے تیری توقع سے زیادہ دکھ ہے
ہے تِرے پاس ادا، لفظ، قرینہ، صورت
اور مِرے پاس فقط ایک نہتا دکھ ہے
عبدالرحمان واصف
No comments:
Post a Comment