Monday, 12 October 2020

جو صرف ایک ہے وہ دوسرا بنے گا نہیں

 جو صرف ایک ہے وہ دوسرا بنے گا نہیں

خدا بناتے ہو، لیکن خدا بنے گا نہیں

یہاں مفاد بدلتے ہیں دھوپ چھاؤں کے ساتھ

تِرا بنایا ہوا بھی، تِرا بنے گا نہیں

برا بنا کے تجھے چھوڑ دیں گے سب لیکن

تِرے لیے کبھی کوئی بُرا بنے گا نہیں

یہ خاک ہے جو سدا تیرے پاؤں چومتی ہے

کسی ہوا میں نہ رہ، نقشِ پا بنے گا نہیں

نہ گھول شہد تعلق کی تلخیوں میں سعود

تُو جانتا ہے یہ خوش ذائقہ بنے گا نہیں


سعود عثمانی

No comments:

Post a Comment