Monday, 12 October 2020

میں پیاس بانٹتا ہوا آیا سبیل تک

اتنی فضا خراب ہے جنگل سے جھیل تک

مصروفِ احتجاج ہیں چڑیا سے چیل تک

پھر اس کے بعد جانے اداسی کا کیا بنا

آئی تھی مجھ کو چھوڑنے بابِ فصیل تک

رستے میں ہی تمام ہوا بارِتشنگی

میں پیاس بانٹتا ہوا آیا سبیل تک

ہنس ہنس کے آنسوؤں پہ تشدد کیا گیا

اتنا کہ پڑ گئے کئی اشکوں پہ نیل تک

ایسا نہیں کہ صرف پرندے چلے گئے

غائب دکھائی دیتی ہے منظر سے جھیل تک

پھر روزو شب کو پڑ گئی اڑنے کی لت کبیر

پیدل تھے میری عمر کے دس بیس میل تک


کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment