Tuesday, 10 August 2021

حسین، ماہ جبیں، تابناک آئی ہے

 حسین، ماہ جبیں، تابناک آئی ہے

سنا ہے شہر میں کوئی چلاک آئی ہے

سبھی کے درمیاں آتی ہے مختصر دوری

ہمارے بیچ مگر ٹھیک ٹھاک آئی ہے

ابھی تو سابقہ دُکھ تھا، کہ یہ نگاہِ جواں

اک اور شوخ بدن پھر سے تاک آئی ہے

تری تلاش میں نکلے تھے چند حُسن پرست

ہر اک کے حصے میں راکھ اور خاک آئی ہے


حسنین اقبال

No comments:

Post a Comment