Tuesday, 10 August 2021

بات بن جائے جو تفصیل سے باتیں کر لے

 بات بن جائے جو تفصیل سے باتیں کر لے

تشنگی میری اگر جھیل سے باتیں کر لے

جہاں کے گاؤں سے تاریکی نکل سکتی ہے

دل اگر فکر کی قندیل سے باتیں کر لے

تُو خریدار مِرے دل کی زمیں کا ہے ٹھہر

پہلے دل روح کی تحصیل سے باتیں کر لے

کعبۂ دل تجھے محفوظ اگر رکھنا ہے

جا کے الفت کی ابابیل سے باتیں کر لے

صرف قرآں کے علاوہ ہے بھلا کس کی مجال

جو کہ تورات سے، انجیل سے باتیں کر لے

وہ سہولت ہمیں گوگل نے فراہم کی ہے

پل میں انسان برازیل سے باتیں کر لے

عاقبت اپنی بنانی ہے اگر فیض تجھے

نفس کی اُڑتی ہوئی چیل سے باتیں کر لے


فیض خلیل آبادی

No comments:

Post a Comment