اُدھر ستارہ فلک کی جو کاخ سے ٹُوٹا
اِدھر زمین کا دل بھی پٹاخ سے ٹوٹا
میں خامشی سے کوئی بات کرنے والا تھا
میرا سکوت میری اپنی آخ سے ٹوٹا
کلی کِھلی تھی نئی صبح کی اُمید لیے
چلی وہ بادِ قضا پھول شاخ سے ٹوٹا
ذرا سی بات پہ آنکھوں میں آ گئے آنسو
گِرا جو پھول تو شیشہ تڑاخ سے ٹوٹا
نہیں تھا سہل درِعشق سے گُزر جانا
حیا کا قُفل نظر کی سلاخ سے ٹوٹا
آصف رشید اسجد
No comments:
Post a Comment