Tuesday, 10 August 2021

مٹتی لکیر رہ گئی ہے آسمان پر

 مِٹتی لکیر رہ گئی ہے آسمان پر

پنچھی چلے گئے ہیں اچانک اُڑان پر

کشتی ڈبو کے دھاڑتا طوفان تھم گیا

اس کے نشان رہ گئے بس بادبان پر

اب بھی جواز ڈھونڈتا ہے بےوفائی کے

غصہ بھی آ رہا ہے دلِ خوش گمان پر

اتنا تھا سحر جھانکتا آنکھوں کی اوٹ سے

ہم نے یقین چھوڑ دیا اک گمان پر

غاروں میں رہنے والے تو روپوش ہو گئے

کندہ نقوش رہ گئے اُبھری چٹان پر

آہو پہاڑ چھوڑ کے صحرا میں جا بسے

بیٹھے شکاری رہ گئے اونچی مچان پر

گروی نہیں رکھا کبھی پندار بھی حنیف

سودا نہیں کِیا ہے کبھی اپنی آن پر


حنیف دیپ

No comments:

Post a Comment