Tuesday, 10 August 2021

جب تمہیں یاد کیا رنج ہوا بھول گئے

 جب تمہیں یاد کیا رنج ہوا بھول گئے

ہم اندھیروں میں اجالے کی فضا بھول گئے

تم سے بچھڑے تھے تو جینے کا چلن یاد نہ تھا

تم کو دیکھا ہے تو مرنے کی دعا بھول گئے

تیرے آنسو تھے کہ بے داغ ستاروں کے چراغ

عمر بھر کے لیے ہم اپنی سزا بھول گئے

ہم خیالوں میں تمہیں یاد کئے جاتے ہیں

اور تم دل کے دھڑکنے کی صدا بھول گئے

پیار میں کوئی فصیلیں جو اٹھائے بھی تو کیا

تم تو خود لذتِ اسلوبِ وفا بھول گئے

کسی مہکی ہوئی چھاؤں میں ٹھہر کے ہم بھی

سنگ دل وقت کا اندازِ جفا بھول گئے

کتنے نادان ہیں وہ اہلِ محبت جاذب

جو ہر اک بات محبت کے سوا بھول گئے


جاذب قریشی

No comments:

Post a Comment