Tuesday, 10 August 2021

غلط بیانی پہ اس کی یقیں دکھاتی رہی

غلط بیانی پہ اس کی یقیں دکھاتی رہی

میں سب سمجھتی رہی اور مسکراتی رہی

یہ سوچ کر کہ تغافل تو اس کی فطرت ہے

میں اپنے دل کو بڑی دیر تک مناتی رہی

اسے تو لوٹ کے آنا ہی تھا، وہ لوٹ آیا

مگر وہ آیا تو ہاتھوں سے عمر جاتی رہی

عجب روایتی عورت ہے زندگی میری

ہمیشہ حسب ضرورت ہی چاہی جاتی رہی

اسے چمن کی بہار و خزاں سے کیا مطلب 

وہ ایک بھولی سی چڑیا تھی چہچہاتی رہی 

وہ دن کہ بوجھ کڑی دھوپ میں اٹھاتا رہا 

میں رتجگوں کی تھکن اوڑھتی بچھاتی رہی 

نظر میں رہنا تھا نصرت تو اس کی پلکوں سے 

تمام عمر میں گردِ سفر ہٹاتی رہی 


نصرت مہدی

No comments:

Post a Comment