چراہ گاہیں نئی آباد ہوں گی
مگر جو بستیاں برباد ہوں گی
خدا مٹی کو پھر حکم دے گا
کئی شکلیں نئی ایجاد ہوں گی
کبھی پھانسی نہیں لیں گے دوپٹے
یہ ساری لڑکیاں آزاد ہوں گی
ابھی ممکن نہیں لیکن یہ ہو گا
کتابیں صاحبِ اولاد ہوں گی
یہ پریاں پھر نہیں آئیں گی ملنے
یہ غزلیں پھر نہیں ارشاد ہوں گی
میں ڈرتا ہوں ان عادتوں سے
جو مجھ کو تمہارے بعد ہوں گی
میں ان آنکھوں کو پڑھ کے سوچتا ہوں
یہ نظمیں کس طرح سے یاد ہوں گی
میں ڈرتا ہوں علی ان عادتوں سے
کہ جو مجھ کو تمہارے بعد ہوں گی
علی زریون
No comments:
Post a Comment