Tuesday, 10 August 2021

چراگاہیں نئی آباد ہوں گی

 چراہ گاہیں نئی آباد ہوں گی

مگر جو بستیاں برباد ہوں گی

خدا مٹی کو پھر حکم دے گا

کئی شکلیں نئی ایجاد ہوں گی

کبھی پھانسی نہیں لیں گے دوپٹے

یہ ساری لڑکیاں آزاد ہوں گی

ابھی ممکن نہیں لیکن یہ ہو گا

کتابیں صاحبِ اولاد ہوں گی

یہ پریاں پھر نہیں آئیں گی ملنے

یہ غزلیں پھر نہیں ارشاد ہوں گی

میں ڈرتا ہوں ان عادتوں سے

جو مجھ کو تمہارے بعد ہوں گی

میں ان آنکھوں کو پڑھ کے سوچتا ہوں

یہ نظمیں کس طرح سے یاد ہوں گی

میں ڈرتا ہوں علی ان عادتوں سے 

کہ جو مجھ کو تمہارے بعد ہوں گی 


علی زریون

No comments:

Post a Comment