Thursday, 3 June 2021

میں گلستاں میں نشیمن ہوں پھر بنانے کو

 میں گلستاں میں نشیمن ہوں پھر بنانے کو

خبر کرو کسی بجلی کے تازیانے کو

متاعِ درد ملی ہے ہزار جتنوں سے

بہت سنبھال کے رکھا ہے اس خزانے کو

پکارتی ہے تمہیں بام و در کی تاریکی

کبھی تو روشنی بخشو غریب خانے کو

کہو اندھیروں سے چاہیں تو راستہ روکیں

میں جا رہا ہوں چراغِ وفا جلانے کو

سوائے سنگِ ملامت وہ کچھ بھی لا نہ سکے

گئے تھے چاند پہ جو بستیاں بسانے کو

خدا کرے کہ سلامت رہیں ندیم مرے

تمام عمر پڑی ہے فریب کھانے کو


مقسط ندیم

No comments:

Post a Comment