جس محبت کی نذر اپنی جوانی ہو گئی
وہ محبت بھی کہیں قصہ کہانی ہو گئی
ایک سرکش تھی کہ جو مجھ پہ مَرا کرتی تھی
اس کا کہنا ہے کہ اب وہ بھی سیانی ہو گئی
اس کی مجبوری تھی وہ بول نہیں سکتی تھی
بات ایسی تھی کہ آنکھوں کی زبانی ہو گئی
حسن کچھ خاص نہ تھا قبل مِری چاہت سے
میرے شعروں نے سنوارا تو سہانی ہو گئی
بیٹھے بیٹھے کیں بہت پیار بھری باتیں اور
باتوں باتوں میں کبھی سیف بیانی ہو گئی
وہ بچھڑتے ہوئے بھی ضبط پہ معمور رہی
میری جانب سے شروع اشک فشانی ہو گئی
منا لیتے تھے کبھی ہم تمہیں لمحے بھر میں
بات اچھی تھی مگر اب وہ پرانی ہو گئی
دلِ برباد مکاں تھا تِری یادوں کا کبھی
تیری یادوں کی بھی اب نقل مکانی ہو گئی
جس کے ہر پل کی کبھی رکھتا تھا خبریں توصیف
اب اسی دلربا سے ہیچ مدانی ہو گئی
توصیف زیدی
No comments:
Post a Comment