Thursday, 3 June 2021

جس محبت کی نذر اپنی جوانی ہو گئی

 جس محبت کی نذر اپنی جوانی ہو گئی

وہ محبت بھی کہیں قصہ کہانی ہو گئی

ایک سرکش تھی کہ جو مجھ پہ مَرا کرتی تھی

اس کا کہنا ہے کہ اب وہ بھی سیانی ہو گئی

اس کی مجبوری تھی وہ بول نہیں سکتی تھی

بات ایسی تھی کہ آنکھوں کی زبانی ہو گئی

حسن کچھ خاص نہ تھا قبل مِری چاہت سے

میرے شعروں نے سنوارا تو سہانی ہو گئی

بیٹھے بیٹھے کیں بہت پیار بھری باتیں اور

باتوں باتوں میں کبھی سیف بیانی ہو گئی

وہ بچھڑتے ہوئے بھی ضبط پہ معمور رہی

میری جانب سے شروع اشک فشانی ہو گئی

منا لیتے تھے کبھی ہم تمہیں لمحے بھر میں

بات اچھی تھی مگر اب وہ پرانی ہو گئی

دلِ برباد مکاں تھا تِری یادوں کا کبھی

تیری یادوں کی بھی اب نقل مکانی ہو گئی

جس کے ہر پل کی کبھی رکھتا تھا خبریں توصیف

اب اسی دلربا سے ہیچ مدانی ہو گئی


توصیف زیدی

No comments:

Post a Comment