Thursday, 3 June 2021

لگائی آگ خود ہم نے زمانے سے گلہ کیا ہے

 لگائی آگ خود ہم نے زمانے سے گِلہ کیا ہے

چمن جل کر ہوا ہے راکھ باقی اب رہا کیا ہے

ملی پل بھر خوشی ہمدم یہ سنتے ہی جلا کیا ہے

کبھی میری تباہی پر پریشاں بھی ہواکیا ہے

وفا میں چوٹ کھانا بھی غنیمت جان لیتے ہیں

کریں لاکھوں ستم کوئی اگر ہم پر بُرا کیا ہے

سحر تک جا بہ جا برسات شبنم کی ہوئی لیکن

فقط میری گلی میں سنگ یا شعلہ گرا کیا ہے

کنارے سے اُتر کر ہی سمندر پار ہوتا ہے

تماشا دیکھنے والے مقدر سے گلہ کیا ہے

ذرا سی موج بھی کشتی سمندر میں بہا لے گی

دلاسہ تم اگر دو گے نہیں تو آسرا کیا ہے

طرف داری نہیں کرتا کبھی عارف سیاہی کی

مجھے سُولی چڑھا دیں گے اگر منصف روا کیا ہے


جاوید عارف

No comments:

Post a Comment