Thursday, 7 April 2022

دیکھ افق کے پیلے پن میں دور وہ منظر ڈوب گیا

 دیکھ افق کے پیلے پن میں دور وہ منظر ڈوب گیا

جیسے کسی بیمار کے رخ پر رنگ ابھر کر ڈوب گیا

جھوٹی آس کے پنکھ لگا کر سات سمندر اڑ آیا

تیرے قرب کی خوشبو پا کر میں ساحل پر ڈوب گیا

یاد کی اے سیلی دیوارو! اب کے ایسا لگتا ہے

حال کی طغیانی میں جیسے ماضی کا گھر ڈوب گیا

وہ تو اپنے قد سے زیادہ سر افرازِ بزم ہوا

میں گمنام زمانہ اپنی ذات کے اندر ڈوب گیا

اس کے بدن کے سیمیں پن کا ایک تصور تھا کہ اچانک

لمس نے بڑھ کر ٹھوکر کھائی چاند چمک کر ڈوب گیا


رونق رضا

No comments:

Post a Comment