Sunday, 14 November 2021

ہمارے خواب ہماری پسند ہوتے گئے

 ہمارے خواب ہماری پسند ہوتے گئے

ہم اپنے آئینہ خانوں میں بند ہوتے گئے

یہ کیا ہوا کہ بہ ایں جسم اس سے ملتے رہے

مگر فراق کے صدمے دو چند ہوتے گئے

ہر ایک فتح پہ مغرور ہو رہا تھا وہ

ہر اک شکست پہ ہم خود پسند ہوتے گئے

ہم ایسے بکھرے کہ اپنے ہی کام نہ آ سکے

کسی کے حق میں مگر سود مند ہوتے گئے

کسی کی بالا قدی کے شکوہ کی ضد میں

ہم اپنے قد سے زیادہ بلند ہوتے گئے


رونق رضا

No comments:

Post a Comment