Sunday, 14 November 2021

تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر کب سے

 تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر کب سے

خلوص رکھا ہے میں نے سنبھال کر کب سے

اجالے ہو گئے سورج کے نام سے منسوب

کہ شمع بجھ گئی خود کو پگھال کر کب سے

ذرا سی چوٹ بھی لگتی تو ٹوٹ جاتا تھا

وہ دل تو رکھ دیا میں نے نکال کر کب سے

بچھڑ کے مجھ سے نظر آتے ہیں یتیم سے وہ

رکھا تھاجن غموں کو میں نے پال کر کب سے

حواس باختہ ہیں دیکھ کر وہ جیت مِری

جو جی رہے تھے غلط فہمی پال کر کب سے

یہ درد یوں ہی نہیں آ گیا زباں پہ مِری

رکھا ہوں آہوں کو نغموں میں ڈھال کر کب سے

شمار کر نہ سکا وہ مِرے ہنر طالب

جو خوش ہے عیب مِرا اک نکال کر کب سے


متین طالب

No comments:

Post a Comment