میں حرفوں کے کھنڈر کھنگالتا ہوں
کوئی اسمِ ہنر کھنگالتا ہوں
نگاہیں عرش پر کیا ڈھونڈتی ہیں
دعائے بے اثر کھنگالتا ہوں
مِری آوارگی یہ پوچھتی ہے
یہ کیا میں در بدر کھنگالتا ہوں
مجھے منزل ملے گی، کیا کروں گا
سفر پر میں سفر کھنگالتا ہوں
میں اپنے آپ میں ڈوبا نہیں ہوں
تہِ ہستی گُہر کھنگالتا ہوں
سراغِ ہستیٔ گم گشتہ مل جائے
تِری یادیں اگر کھنگالتا ہوں
اندھیرے میں کوئی جگنو ملے گا
سو اس کو بے خطر کھنگالتا ہوں
میں اڑتا ہوں کہ اپنے بال و پر سے
ہوا کے بال و پر کھنگالتا ہوں
یحییٰ خان یوسفزئی
No comments:
Post a Comment