آرزو تو یہی ہے کہ
تم مجھے نام سے پکارو
میرا نام
ہاں وہ نام
جو صرف تم سے سننا اچھا لگتا ہے
وہ نام جسے تم نے
محبت کی کتابوں میں
اپنے ساتھ لکھا تھا
وہ نام جس کی خوشبوؤں سے
سبھی صفحات معطر تھے
مگر پھر وقت کی گردش نے
اور لوگوِں کی نگاہوں نے
دیمک کی طرح ہر اک صفحے کو کھایا ہے
میرا نام مٹایا ہے
میرا نام مٹایا ہے
عروسہ انس
No comments:
Post a Comment