Sunday, 14 November 2021

دوستی اس کی دشمنی ہی سہی

 دوستی اس کی دشمنی ہی سہی

دوست تو ہو وہ مدعی ہی سہی

مستی و بحث عذر کفارہ

توبہ سے توبہ ہم نے کی ہی سہی

ہے اگر کچھ وفا تو کیا کہنے

کچھ نہیں ہے تو دل لگی ہی سہی

جی ہے یہ بن لگے نہیں رہتا

کچھ تو ہو شغلِ عاشقی ہی سہی

محتسب! ختم کیجئے حُجت

پی ہے تو خیر ہم نے پی ہی سہی

حیف خمیاز ہائے حسرت و شوق

زندگانی کشاکشی ہی سہی

جان دے کر لیا ہے نامِ وفا

موت بھی ہم نے مول لی ہی سہی

ملتے ہیں مدعی سے ملنے دو

کہ مِری ناخوشی خوشی ہی سہی

قتل ہوتے ہیں، قتل ہوتے ہیں

عہدِ دل دورِ نادری ہی سہی

اے قلق ناصحوں سے کیا تکرار

مان اک بات مان لی ہی سہی


قلق میرٹھی

No comments:

Post a Comment